نسلی امتیاز


نسلی امتیاز سے مراد ملازمت کے کسی درخواست گار سے اس کی نسل یا اس کی نسل سے وابستہ خصوصیات کی وجہ سے ناپسندیدگی والا سلوک کرنا ہے۔ نسلی امتیاز میں کسی سے اس وجہ سے ناپسندیدگی والا سلوک کرنا بھی شامل ہے کیونکہ اس نے کسی خاص نسل کے فرد سے شادی کی ہے یا وابستہ ہے۔

نسلی امتیاز ایک سنگین جرم ہے۔ سول رائٹس ایکٹ 1964 (ٹائٹل VII) ، ریاست نیویارک کا قانون برائے انسانی حقوق (NYSHRL) اور ریاست نیویارک کا قانون برائے انسانی حقوق (CHRL) کے تحت نیویارک کے شہریوں کا نسلی امتیاز سے تحفظ کیا جاتا ہے۔


اپنے حقوق جانیں

کسی مالک کے لیے آپ کی نسل کی بنیاد پر ملازمت کے بارے میں فیصلے کرنا غیرقانونی ہے۔

مالکان آپ کی صلاحیتوں اور یہ کہ آپ کام کتنی عمدگی سے انجام دیتے ہیں، کی بجائے آپ کی نسل کی بنیاد پر ملازمت کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ اس میں بھرتی، برخواستگی، نظم و ضبط، فوائد کی تقسیم، ترقی، معاوضہ، ملازمت کی تربیت، یا ملازمت کی کوئی دیگر شرائط۔ شامل ہیں۔

اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ آپ غیر قانونی طور پر نسلی تعصب کا شکار ہوے ہیں، تو یاد رکھیں کہ آپ کو وفاقی، ریاستی اور نیو یارک شہر کے قانون کے تحت حفاظت فراہم کی گئی ہے۔

نسلی امتیاز کی مثالیں

نسلی بنیاد پر کیے گئے ملازمت کے فیصلے غیر قانونی ہیں

ملازمت سے متعلق فیصلے–بشمول بھرتی اور برخواستگی–جو نسل کی بنیاد پر یا نسلی قدامت پرستی کی بنیاد پر ہوں، کرنا غیر قانونی ہے۔ اس میں ملازمت سے متعلق ایسے مخالفانہ فیصلے کرنا بھی شامل ہیں کیونکہ کوئی فرد کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے فرد سے وابستہ ہے۔

مثالیں

  • آپ ایک ملازمت کے لیے درخواست دیتے ہیں جس کے لیے آپ کے پاس تجربہ اور بہترین اہلیت موجود ہے لیکن آپ کو اس وجہ سے بھرتی نہیں کیا جاتا کہ کمپنی کے کچھ پرانے صارفین افریقی نژاد امریکیوں کے ساتھ معاملات میں آرام دہ محسوس نہیں کرتے۔
  • آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کمپنی میں تخفیف اور تنظیم نو کے سبب نکالا جا رہا ہے، جبکہ اسی نوعیت کی ملازمت پر کم تجربہ کار سفید فام ملازمین اپنی نوکریوں پر برقرار رہتے ہیں۔

نسلی بنیاد پر ترقی دینے میں ناکامی غیر قانونی ہے

نسلی امتیاز کے خلاف قوانین ملازمین کو نسل یا نسلی دقیانوسیت کی وجہ سے ترقی اور میعاد ملازمت حاصل نہ کر پانے سے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

مثالیں

  • آپ نے ادنی درجے کے مینیجر کے طور پر ایک کمپنی میں سالوں کام کیا ہے اور کارکردگی کے اعتبار سے عمدہ رائے کے حامل رہے ہیں۔ آپ کی ذمہ داریاں وقت کے ساتھ بڑھ گئی ہیں، لیکن آپ کی نوکری کی درجہ بندی اور تنخواہ اس کی عکاسی نہیں کرتی۔ دریں اثناء، سفید فام رفقائے کار کو درمیانے اور اعلی درجے کی انتظامیہ میں ترقی دی گئی ہے تاکہ ان کی اضافی ذمہ داریوں کی عکاسی ہو سکے۔
  • آپ نے سالوں تک اپنی کمپنی میں کام کیا ہے، مثالی جائزے موصول ہوئے ہیں اور سال کے ملازم کا ایوارڈ بھی ملا ہے، لیکن جتنی بار بھی آپ ترقی کے لیے درخواست دیتے ہیں، اس عہدے کو کسی مختلف نسل کے ایک کم لائق فرد سے پُر کر دیا جاتا ہے۔

تنخواہ میں نسل کی بنیاد پر تفریق غیر قانونی ہے

قانون آپ کو معاوضہ کی ہر قسم، بشمول تنخواہ، زائد وقت کی تنخواہ، بونس، اسٹاک سے متعلق اختیارات، منافع میں حصہ، زندگی کے بیمہ اور تعطیل یا چھٹی کی تنخواہ میں نسل پر مبنی تفریق سے محفوظ رکھتا ہے۔

مثالیں

  • آپ نے ریجنل مینیجر کے عہدے تک پہنچنے کے لیے بہت کام کیا ہے۔ یکساں تربیت اور عملی تجربے کے حامل کسی مختلف نسل کے ریجنل مینیجر کو حال ہی میں بھرتی کیا گیا تھا اور آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اس کو آپ سے زیادہ ادائیگی کی جائے گی۔
  • آپ اپنی کمپنی کے سرفہرست سیلز پرسن ہیں، لیکن آپ کا مالک آپ کو ایک کم پسندیدہ خطے میں تقرر کر دیتا ہے کیونکہ وہ ایک اقلیتی مضافات ہے، جبکہ کم سیلز والے ایک سفید فام ملازم کو آپ کا علاقہ اور صارفین کی اساس دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ آپ سے کافی زیادہ کمیشن کمانے کا اہل ہو جاتا/جاتی ہے۔ قانون بنیادی طور پر اقلیتوں کے پہلے سے غالب اقلیتی اداروں یا جغرافیائی علاقوں میں تقرر کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

نسلی دقیانوسیت اور امتیازی سلوک

مالک آپ کے ساتھ ذاتی خصوصیات یا نسل کے ساتھ وابستہ دقیانوسیت کی وجہ سے مخالفانہ برتاؤ نہیں کر سکتا۔

قانون مخصوص نسلی گروہوں کے افراد کی صلاحیتوں اور طور طریق کے بارے میں دقیانوسیت اور مفروضات کی بنیاد پر ملازمت کے فیصلوں کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مالکان آپ کے ساتھ ذاتی نسلی خصوصیات، بشمول بالوں کی ساخت، جلد کے رنگ یا چہرے کے خدوخال کی وجہ سے مخالفانہ برتاؤ نہیں کر سکتے۔

محفوظ طرز عمل یا خصوصیات میں ثقافتی لباس، طور طریقہ، یا زبان بھی شامل ہو سکتے ہیں تاوقتیکہ طرزعمل یا خصوصیات سے نوکری کے فرائض انجام دینے کی اہلیت میں ٹھوس حد تک خلل نہ پڑے۔ مثال کے طور پر، آپ کا مالک کلی طور پر اس وجہ سے ترقی دینے سے انکار نہیں کر سکتا کہ آپ بالوں کی چوٹی بناتے ہیں یا گندھی ہوئی افریقی طرز میں بہت سی چٹیاں بناتے ہیں۔

مالکان نسلی تعصب پر مبنی فیصلوں کی دوسرے ملازموں یا گاہکوں کے متوقع ردعمل کی بناء پر چھوٹ نہیں دے سکتے۔

مالکان نسلی امتیاز سے متاثرہ فیصلے اس عذر کے ساتھ نہی کر سکتے کہ یہ فیصلے ملازمین سے تعلقات یا صارفین کے ممکنہ منفی ردعمل کی وجہ سے کئے گئے ہیں۔

مالکان نسلی اعتبار سے ملازمین کو تقسیم نہیں کر سکتے

اگر آپ کا مالک ملازمین کے ایک مخصوص گروہ کو نسلی بنیاد پر دوسرے ملازمین یا صارفین سے طبعی لحاظ سے الگ کرتا ہے تو یہ برتاؤ نسلی امتیاز میں آ سکتا ہے۔

اقلیتوں کو مخصوص عہدوں یا گروپ سے خارج کرنا یا ملازمین یا نوکریوں کی اس بنیاد پر درجہ بندی کرنا کہ بعض نوکریوں پر عام طور پر صرف اقلیتوں کو رکھا جائے، غیر قانونی ہے۔

امتیازی اثرات والی پالیسیاں

غیر ارادی نسلی امتیاز بھی غیر قانونی ہو سکتا ہے۔
غیر جانبدار نظر آنے والی نوکری کی پالیسیاں بھی اس صورت میں امتیازی ہو سکتی ہیں جب ان سے مخصوص نسل کے کارکنان کو نامتناسب طریقے سے خطرہ لاحق ہو تاوقتیکہ اس پالیسی کا تعلق نوکری سے نہ ہو۔  مثال کے طور پر:

  • بظاہر غیرجانبدار پالیسی جو تمام ملازمین سے ہائی اسکول ڈگری رکھنے کی متقاضی ہے، افریقی نژاد امریکیوں اور لاطینیوں کو غیرمتناسب طریقے سے خارج کر سکتی ہے جہاں ہائی اسکول سے سند یاب ہونے کی شرح کم ترہے۔ اگر ہائی اسکول کی ڈگری وہ مخصوص کام انجام دینے کے لیے لازمی نہیں ہے––مثلاً وہ عہدے جو بنیادی طور پر جسمانی محنت پر مشتمل ہوتے ہیں––تو پالیسی امتیازی ہو سکتی ہے۔
  • “داڑھی کی ممانعت” کی ملازمت کی پالیسی جو نسل سے قطع نظر تمام کارکنان پر لاگو ہوتی ہے امتیازی معلوم نہیں پڑ سکتی، لیکن اگر پالیسی کا تعلق کام سے نہیں ہے تو یہ غیر قانونی ہو سکتی ہے اور اس کا ایک منفی اثر ان افریقی نژاد امریکی مردوں کی ملازمت پر پڑتا ہے جو جلدی بیماری کا ایک میلان رکھتے ہیں جو داڑھی مونڈھنے کے شدید زخموں کا باعث ہوتی ہے۔

رنگ کا امتیاز

اگرچہ رنگ اور نسل متجاوز ہیں، لیکن یہ مترادف نہیں ہیں۔ رنگ کا امتیاز اس وقت ہوتا ہے جب کسی فرد کی جلد کی چمک، گہرے پن، یا رنگ کی دیگر خصوصیات کی بنیاد پر اس کے خلاف امتیاز برتا جائے۔

قانون کاکیشیائی نسل سمیت تمام افراد کے خلاف رنگت کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

وابستگی کا امتیاز

نسلی امتیاز کا شکار ہونے کے لیے آپ کا تحفظ یافتہ نسل کا رکن ہونا ضروری نہیں ہے۔

مختلف نسل کے کسی فرد کے ساتھ کسی کے وابستہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کے خلاف امتیازی سلوک کرنا قانون کے خلاف ہے۔

مالکان آپ کے ساتھ اس وجہ سے غیر جانبدرانہ سلوک نہیں کر سکتے کہ:

  • مختلف نسل کے فرد کے ساتھ آپ کی شادی یا وابستگی ہے۔
  • نسل پر مبنی تنظیموں یا گروپوں میں آپ کی رکنیت یا ان کے ساتھ آپ کی وابستگی ہے۔
  • عام طور پر مخصوص اقلیتی گروہوں کے ساتھ وابستہ اسکولوں، عبادت گاہوں یا دیگر ثقافتی طرزعمل میں آپ کی حاضری یا شرکت۔

نسلی امتیاز اس وقت واقع ہو سکتا ہے جب متاثرہ فرد اور امتیاز کا مرتکب شخص یکساں نسل یا رنگ کے ہوں۔

نسل یا رنگ کبھی بھی جائز پیشہ وارانہ اہلیت نہیں ہو سکتے۔

کام کرنے کے معاندانہ ماحول سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے

خواہ ملازمت سے متعلقہ کوئی فیصلہ شامل نہ ہو، آپ پھر بھی آپ نسلی امتیاز کا شکار ہو سکتے ہیں اگر نسل پر مبنی ہراسانگی سے کام کرنے کا ایک معاندانہ ماحول پیدا ہو۔

کام کرنے کا معاندانہ ماحول پیدا ہو سکتا ہے بذریعہ:

  • کسی شخص کی نسل یا رنگ کے بارے میں الفاظ، جیسا کہ لطیفے، نسلی بدزبانی یا ناگوار یا تحقیر آمیز تبصرے۔
  • نسلی علامات جیسے سواستکا، کنفیڈریٹ کے جھنڈے، پھندے یا نسل پرستانہ کارٹون یا خاکے دکھانا۔ آپ کا مالک ذمہ دار ہو سکتا، اس سے قطع نظر کہ آیا ناگوار تصاویر عوامی جگہ پر چسپاں کی گئی ہیں، کسی فرد کے دفتر میں دکھائی گئی ہیں یا ای میل کے ذریعہ تقسیم کی گئی ہیں۔

معاندانہ برتاؤ ناپسندیدہ اور شدید ہونا چاہیے

معاندانہ جائے کار کے طور پر اہل قرار پانے کے لیے، برتاؤ کا ناپسندیدہ اور شدید ہونا ضروری ہے۔ ناگوار برتاؤ کا مشاہدہ ہونے پر آواز اٹھانا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس طرح کے تبصرے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہیں۔

معاندانہ ماحول تخلیق کرنے کے لیے صرف ایک، انتہائی درجے کا واقعہ کافی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جسمانی دست درازی، “N لفظ کا استعمال” یا پھندہ لٹکانا اتنا دھمکی آمیز اور رسوا کن ہو سکتا ہے کہ یہ ہراسان کرنے کی سطح تک جا سکتا ہے۔

تاہم، اگر تبصرے یا افعال کم ناگوار ہوں تو ان پر ہراسان کرنے کی حد صرف اس وقت لازم آتی ہے جب وہ اتنی کثرت سے پیش آئیں کہ دھمکانے، معاندانہ یا کام کرنے کا ناگوار ماحول پیدا ہو۔

متاثرین کا ہدف ہونا ضروری نہیں ہے

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف معاندانہ تبصروں کا ہدف ہی کام کرنے کے معاندانہ ماحول کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ناگوار رویے کا ہدف بنائے گئے شخص نہیں ہیں –– اور چاہے آپ ہدف بنائی گئی نسل کے رکن نہ بھی ہوں تو بھی آپ شکار بن سکتے ہیں۔

اگر ناگوار رویہ آپ کے اپنے کام کرنے کی صلاحیت پر اثر ڈالتا ہے تو آپ دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔

آپ کے افسر کا مجرم ہونا ضروری نہیں ہے

یہ غلط فہمی ہے کہ صرف آپ کا باس ہی کام کرنے کا معاندانہ ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ مالکان پر نسلی امتیاز کو روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ساتھی کارکن، کمپنی کے دوسرے شعبے کا سپروائزر یا حتیٰ کہ غیر ملازم، جیسا کہ ایک سپلائر بھی مرتکب ہو سکتا ہے۔

اگر آپ امتیازی سلوک کا شکار ہیں تو کیا کیا جائے

امتیازی سلوک کسی بھی جائے کار میں پیش آ سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ امتیازی سلوک کا شکار ہیں تو آپ فوری طور پر بہت سے اقدامات کر سکتے ہیں:

  • امتیازی طرزعمل اور/یا ہراسانگی کو نوٹ کرنا شروع کریں۔ اپنی تفصیلات میں مخصوص رہیں—ہر واقعہ کا وقت اور مقام، جو کچھ کہا اور کیا گیا اور جنہوں نے ان حرکتوں کو دیکھا ان کے بارے میں تحریر کریں۔
  • اچھا کام کرتے رہیں۔ اپنی ملازمت کے جائزوں اور ایسے خطوط یا یاد داشتوں کی نقول گھر پر رکھیں جن سے پتہ چلتا ہوں کہ آپ کام کی جگہ پر اچھا کام کر رہے ہیں۔
  • دوستوں اور اہل خانہ سے مدد طلب کریں۔ کام کی جگہ پر ہراسانگی کا تنہا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے اور یہ کافی تناؤ بھرا ہو سکتا ہے۔
  • اگر آپ کو ہراساں کرنے والے شخص سے براہ راست بات کرنے میں تحفظ کا احساس ہو تو بتائیں کہ ان کا رویہ آپ کو پریشان کر رہا ہے––اور جو رویہ پریشان کر رہا ہے اس کے بارے میں مخصوص رہیں––اور انہیں اس سے رک جانے کو کہیں۔
  • اگر آپ کو ہراساں کرنے والے شخص سے براہ راست بات کرنے میں آپ کو اطمینان محسوس نہ ہو تو براہ راست اپنے سپروائزر یا ہیومن ریسورسز ڈپارٹمنٹ میں جائیں۔ انہیں اس رویے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے اختیار کردہ اقدامات کے بارے میں بتائیں۔
  • اپنی کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ ملازمت کارہنما کتابچہ چیک کریں۔ اگر آپ کے مالک کے پاس ہراسانگی سے متعلق پالیسی نافذ العمل ہے تو اس پر عمل کریں۔
  • اپنی شکایات تحریری شکل میں دیں۔

انتقامی کارروائی غیر قانونی ہے

اگر آپ نسلی امتیاز کے بارے میں شکایت کرتے ہیں تو آپ کے مالک کے لیے آپ کے خلاف کوئی کارروائی کرنا غیر قانونی ہے۔

آجروں کے لیے ان درخواست دہندگان یا ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا غیر قانونی ہے جو کام پر امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں، مساوی ملازمت کے موقع سے متعلق کمیشن (ای ای او سی) یا کسی ریاستی یا شہری ایجنسی کے پاس الزام عائد کریں یا ملازمت سے متعلق امتیازی سلوک کی کارروائی جیسے تفتیش یا مقدمے میں––گواہ بننے سمیت––اس میں شرکت کریں۔

آپ انتقامی کارروائی سے محفوظ ہیں خواہ کوئی امتیازی سلوک نہ بھی ہوا ہو

تاوقتیکہ آپ کو خالصتاََ اس بات کا یقین ہو جائے کہ امتیازی سلوک یا ہراسانگی پیش آئی ہے، آپ کا مالک آواز اٹھانے یا کسی تفتیش یا قانونی کارروائی میں شرکت کرنے پر آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ اگر ایجنسی یا عدالت کو یہ پتہ چلتا ہے کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر آپ کے خیال میں آپ کے جائے کار میں ہراسانگی پیش آئی ہے تو آواز اٹھانا ضروری ہے––اور قانون انتقامی کارروائی سے آپ کا تحفظ کرے گا۔

نسلی امتیاز کے خلاف دعویٰ کیسے دائر کیا جائے

اگر آپ نسلی امتیاز کے خلاف دعوی دائر کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کے لئے کئی طریقے دستیاب ہیں۔ سب سے پہلے، آپ کو یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ کیا آپ کے مخصوص حالات این وائی ایس ایچ آر ایل ، عنوان ہفتم اور/یا سی ایچ آر ایل کے دائرہ کار کے تحت آتے ہیں۔ امریکہ کا مساوی ملازمت کے مواقع سے متعلق کمیشن (ای ای او سی) وفاقی قانون کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے، جبکہ نیو یارک اسٹیٹ کا شعبہ برائے انسانی حقوق (این وائے ایس ایچ آر ایل) کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے اور نیو یارک شہر کا کمیشن برائے انسانی حقوق (سی ایچ آر ایل) کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے۔

اگر آپ کا دعوی متعدد قوانین کے تحت آتا ہے تو تینوں ایجنسیوں کے پاس وہ چیز ہے جسے “کام میں شراکت کا معاہدہ” کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دعوے پر کارروائی کرنے میں وہ ایک دوسرے سے باہمی تعاون کرتے ہیں۔ ہر ایجنسی کے پاس الگ سےدعوٰی دائر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ دوسری ایجنسیوں کے پاس اپنا دعوی “کراس فائل” کرنا چاہتے ہیں۔

ای ای او سی، نیو یارک اسٹیٹ کے شعبہ برائے انسانی حقوق یا نیو یارک سٹی کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے پاس دعوٰی دائر کرنے کے طریقے کی بابت مخصوص معلومات کے لیے، امتیازی سلوک کا دعویٰ دائر کرنے کے طریقے سے متعلق ہمارا صفحہ پڑھیں۔

نسلی امتیاز کے قوانین کا موازنہ

عنوان ہفتم این وائےایس ایچ آر ایل سی ایچ آر ایل
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا احاطہ کرتا ہے ریاست نیویارک کا احاطہ کرتا ہے نیویارک شہر کا احاطہ کرتا ہے
15 سے زائد ملازمین والی کمپنیوں، بشمول ملازمتی ایجنسیوں، یونینز، اور وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومتوں پر لاگو ہوتا ہے، لیکن خود مختار ٹھیکیداروں یا گھریلو کارکنان پر لاگو نہیں ہوتا۔ 4 سے زائد ملازمین والی کمپنیوں بشمول ریاستی اور مقامی حکومتوں اور گھریلو کارکنان پر لاگو ہوتا ہے۔ 4 سے زائد ملازمین والی کمپنیوں، بشمول میونسپل مالکان اور بلا معاوضہ زیر تربیت، نیز مخصوص حالات کے تحت خود مختار ٹھیکیداروں پر لاگو ہوتا ہے۔
سب سے پہلے واقعہ کے 180 دن کے اندر امریکی مساوی روزگار کے موقع سے متعلق کمیشنکے پاس شکایت درج کروانا ضروری ہے۔

تاہم، اگر یہ چارج ریاستی یا شہری قوانین کے دائرہ کار میں بھی ہے تو اندراج کی آخری تاریخ 300 دنوں تک بڑھا دی جاتی ہے۔

آپ پہلے ای ای او سی کے پاس دعوی دائر کیے بغیر وفاقی عدالت میں عنوان ہفتم کا دعوی دائر نہیں کر سکتے ہیں۔

ریاستی عدالت یا ریاست نیویارک کے شعبہ برائے انسانی حقوق کے درمیان اپنا این وائے ایس ایچ آر ایل کا دعوی دائر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اگر آپ ایجنسی کے پاس دعوی دائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ کام واقعہ سے ایک سال کے اندر یا اگر آپ کا دعویٰ عنوان ہفتم کے دعویٰ پر مشتمل ہے تو 240 دن کے اندر دائر کرنا ضروری ہے۔

آپ کے پاس ریاستی عدالت میں اپنا دعوی دائر کرنے کے لیے واقعہ کی تاریخ سے 3 سال تک کا وقت ہے۔

ریاستی عدالت یا نیو یارک شہر کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے درمیان اپنا سی ایچ آر ایل کا دعویٰ دائر کرنے کا انتخاب کریں۔

اگر آپ ایجنسی کے پاس دعوی دائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ کام واقعہ سے ایک سال کے اندر یا اگر آپ کا دعویٰ عنوان ہفتم کے دعویٰ پر مشتمل ہے تو 240 دن کے اندر دائر کرنا ضروری ہے۔

آپ کے پاس ریاستی عدالت میں اپنا دعوی دائر کرنے کے لیے واقعہ کی تاریخ سے 3 سال تک کا وقت ہے۔

سرزنش اور کارکردگی کے منفی جائزے صرف اس وقت قابل عمل ہیں اگر ان کے ہمراہ تنخواہ میں کمی یا تنزلی بھی ہو۔ سرزنش اور کارکردگی کے منفی جائزے صرف اس وقت قابل عمل ہیں اگر ان کے ہمراہ تنخواہ میں کمی یا تنزلی بھی ہو۔ کارکردگی کے جائزے اور تادیبی فیصلے، تنخواہ میں کمی یا تنزلی کے بغیر بھی قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
کام کرنے کا معاندانہ ماحول شدید اور وسیع ہراسانگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ کام کرنے کا معاندانہ ماحول شدید اور وسیع ہراسانگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ ہراسانگی کے لیے معیار کمتر ہے۔ اس کی تعریف “کافی ہلکا” یا “ادنٰی زحمت” سے زیادہ کے طور پر کی جاتی ہے۔

نسلی امتیاز کے لیے قانونی تدابیر

اگر آپ ثابت کر سکتے ہوں کہ آپ نسلی امتیاز کا شکار ہیں تو آپ تدابیر دریافت کر سکتے ہیں جن میں شامل ہیں:

  • سابقہ تنخواہ: وہ رقم اور فائدے جو آپ حاصل کر سکتے تھے اگر آپ کے مالک نے آپ کو برخواست کر کے یا ترقی یا بھرتی سے انکار کر کے نسلی امتیاز نہ برتا ہوتا۔ اس میں اجرتیں، بونس، اسٹاک کے اختیارات، چھٹی کی اجازت، نگہداشت صحت کے اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
  • بحالی: اگر آپ کو برخاست کر دیا گیا تھا تو آپ کے مالک کو آپ کی نوکری آپ کو لوٹانے یا جس ترقی سے آپ کو محروم کر دیا گیا تھا وہ آپ کو دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
  • سردست ادائیگی: اگر آپ کو اپنی نوکری واپس نہیں ملتی تو عدالت تنخواہ میں اس فرق کی تلافی کرنے کے لیے لازمی رقم کی مقدار منظور کر سکتی ہے جو آپ نے اس صورت میں آئندہ کمائے ہوئے اگر امتیازی سلوک نہ ہوا ہوتا۔ سردست ادائیگی کی رقم کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق جس وقت آپ کو غلط طریقے سے برخاست کیا گیا تھا، اس وقت آپ کو ملنے والی اسی سطح کی تنخواہ پر آپ کے واپس لوٹنے میں کتنا وقت لگے گا۔ سردست ادائیگی میں گزشتہ تنخواہ کی طرح تمام کھوئے گئے فوائد شامل ہوتے ہیں۔
  • تلافی کے لیے نقصانات کی ادائیگی: ان نقصانات کی ادائیگی کا مقصد امتیازی سلوک، بشمول تھیراپی کی لاگت، چھوٹی ہوئی اجرتیں یا نئی نوکری تلاش کرنے میں ہونے والے اخراجات نیز جذباتی تکلیف اور ابتلاء جیسی چیزوں کی وجہ سے ہونے والے فاضل اخراجات کی آپ کو “تلافی کرنا” ہے۔
  • تعزیری نقصانات کی ادائیگی: یہ نقصانات مالک کو سزا دینے اور آئندہ امتیازی کارروائیوں کو زک پہنچانے کے ارادے سے ہیں۔ تعزیری نقصانات شاذ و نادر ہی منظور ہوتے ہیں اور صرف وہاں پر دستیاب ہیں جہاں آپ یہ ثابت کر سکتے ہوں کہ مالک کو نسلی امتیاز کے بارے میں معلوم تھا اور اسے روکنے کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔
  • وکلاء کی فیس اور اخراجات: اگر آپ جیت جاتے ہیں تو آپ کے مالک کو آپ کے وکیل کو اس کے کام کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ماہر گواہ کی فیس اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔
  • قبل از فیصلہ سود: یہ رقم پر وہ منافع ہوتا ہے جو آپ نے امتیازی سلوک یا اپنی نوکری سے محروم نہ ہونے کی صورت میں کمایا ہوتا۔ عدالتوں کے پاس قبل از فیصلہ سود کا حساب کتاب کرنے، بشمول کون سی شرح سود لاگو کرنی ہے اور سود کو مرکب کرنے کے معاملے میں فکروعمل کی کافی آزادی ہوتی ہے۔

چونکہ نقصانات کی مقدار کی بنیاد آپ کی مخصوص تنخواہ اور فوائد پر ہوتی ہے لہذا کئی ملین ڈالر کی منظوریاں امتیازی سلوک کے کیسز میں کافی شاذ و نادر ہوتی ہیں بشرطیکہ یہ کہ یہ ایسے درجے کی کارروائی ہو جس میں بہت سارے ملازمین کے دعوے مشترک ہوں یا جہاں آپ کافی زیادہ معاوضہ پانے والے ایگزیکیٹو ہوں۔

نسلی امتیاز کے مختلف قوانین کے تحت امکانی نقصانات

عنوان ہفتم این وائےایس ایچ آر ایل سی ایچ آر ایل
تلافی کے لیے نقصانات کی ادائیگی جی ہاں

‎15-100‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$50,000‎ تک

‎101-200‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$100,000‎ تک

‎‎201-500 ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$200,000‎ تک

500 سے زائد ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$300,000‎ تک

جی ہاں

 

لامحدود

جی ہاں

 

لامحدود

تعزیری نقصانات کی ادائیگی جی ہاں

‎15-100‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$50,000‎ تک

‎101-200‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$100,000‎ تک

‎‎201-500 ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$200,000‎ تک

500 سے زائد ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$300,000‎ تک

اگر آپ سرکاری مالک (وفاقی، ریاستی یا شہری) پر مقدمہ کر رہے ہیں تو آپ کو تعزیری نقصانات موصول نہیں ہو سکتے ہیں۔

جی نہیں جی ہاں

 

لامحدود

گزشتہ تنخواہ جی ہاں

 

عدالت کا تعین کردہ۔

جی ہاں

 

جیوری کا تعین کردہ۔

جی ہاں

 

جیوری کا تعین کردہ۔

بحالی جی ہاں جی ہاں جی ہاں
سردست ادائیگی جی ہاں

 

عدالت کا تعین کردہ۔

جی ہاں

 

جیوری کا تعین کردہ۔

جی ہاں

 

جیوری کا تعین کردہ۔

وکلاء کی فیس جی ہاں جی نہیں جی ہاں
کیا آپ کسی انفرادی سپروائزر کے خلاف مقدمہ لا سکتے ہیں جی نہیں جی ہاں جی ہاں
قبل از فیصلہ سود جی ہاں جی ہاں جی ہاں
ہم سے رابطہ کریں

Send Us an Email

  • 100%