Home » امتیاز » مذہبی امتیاز

					

مذہبی امتیاز


مذہبی امتیاز سے مراد ملازمت کے کسی درخواست گزار سے اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے ناپسندیدہ سلوک کرنا ہے۔ کسی مخصوص مذہب پر عمل کرنے والے فرد سے وابستگی کی بنا پر کسی سے مختلف سلوک کرنا بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔

مذہبی امتیاز ایک سنگین جرم ہے۔ سول رائٹس ایکٹ 1964 (ٹائٹل VII) ، ریاست نیویارک کا قانون برائے انسانی حقوق (NYSHRL) اور شہر نیویارک کا قانون برائے انسانی حقوق (CHRL) کے تحت نیویارک کے شہریوں کا مذہبی امتیاز سے تحفظ کیا جاتا ہے۔


اپنے حقوق کو جانیں

کسی آجر کے لیے آپ کے مذہب کی بنیاد پر ملازمت کے بارے میں فیصلے کرنا غیرقانونی ہے۔

آجر آپ کی صلاحیتوں اور یہ کہ آپ کام کتنی عمدگی سے انجام دیتے ہیں–کی بجائے آپ کے مذہب–یا مذہبی کمی کی بنیاد پر ملازمت کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ اس میں بھرتی، برخاستگی، نظم و ضبط، فوائد کی تقسیم، ترقی، معاوضہ، ملازمت کی تربیت، یا ملازمت کی کوئی دیگر شرائط۔ شامل ہیں۔

قانون کا اطلاق صرف منظم مذاہب پر نہیں ہوتا۔

مذہبی امتیاز کے قوانین روایتی منظم مذاہب جیسا کہ عیسائیت، یہودیت، اسلام، بدھ مت اور ہندومت کے ارکان کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی بھی حفاظت کرتا ہے جو مخلصانہ مذہبی، اخلاقی یا اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ان کی بھی حفاظت کرتے ہیں جو کوئی مذہبی عقیدہ نہیں رکھتے۔

“مذہبی عقائد” والے قانون کے تحت توحید پرستی نیز اخلاقیات اور موحدانہ عقائد بھی ہے جس سے ظاہر ہو سکےکیا غلط اور کیا صحیح ہے اور یہ چیزیں مخلصانہ طور سے روایتی مذہبی خیالات سے حاصل ہوا ہے۔ بہر حال کوٹ نے عام طور سے سوشل سیاستی یا اقتصادی فلسفوں نیز ذاتی ترجیحات کو خارج کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہونچا ہے کہ مذہب کسی نہ کسی درجہ میں زندگی، مقصد اور موت کے حوالے سے تعلق رکھتا ہے۔

مذہبی امتیاز کی مثالیں

روزگار کے فیصلے کے مذہب کی بنیاد پر کر سکتے ہیں غیر قانونی ہو

مذہبی عقائد و اعمال کی بنیاد پر ملازمت دینے یا ملازمت سے نکالنے کا فیصلہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بہر صورت، مذہبی تنظیمیں عام طور سے اس شرط سے خارج ہے

مثالیں:

  • آپ ترقی کے لیے درخواست پیش کرتے ہیں جس کے لیے آپ تجربہ اور شاندار اہلیت رکھتے ہیں، لیکن آپ کو اس لیے بھرتی نہیں کیا جاتا کہ کمپنی کے بعض طویل مدتی مؤکل اس عہدے پر ایک مسلمان سے معاملات کرنے میں پرسکون نہیں ہیں۔
  • آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کمپنی میں افرادی کمی اور تنظیمِ نو کی وجہ سے نکالا جا رہا ہے، لیکن نکالے جانے والوں میں صرف آپ یا ایک اور ملازم شامل ہے جو ابھی یہودیت کی طرف منتقل ہوا، جبکہ دیگر غیر یہودی ملازمین اپنی نوکری پر قائم ہیں۔
  • آپ کا اپنے کام پر مثبت تجربہ کا ریکارڈ ہے لیکن جب آپ اپنے مالک سے کہتے ہیں کہ آپ نے ابھی ایک عیسائی مشنری سے وابستہ ہو گئے ہو تو پھر آپ ملازمت سے دست بردار کردیے جاتے ہو.

ترقی کے امتیازی فیصلے قانون کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں

مذہبی امتیازی سلوک کے خلاف بنائے گیےقوانین کی وجہ سے ملازمین کو تحفظ بھی حاصل ہو تاہے کہ وہ  مذہب یا کسی مخصوص مذہب کے  پیرو کار کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے میعاد کے پورا ہونے کے باوجود ترقی  سے محروم کردیے جاتے ہیں۔

مثالیں:

  • آپ نے کئی سالوں تک کمپنی کے لئے کام کیا ، دوران ملازمت  آپ کے کارکردگی بحسن و خوبی نیز آپ نے ملازمت کا سالانہ ایوارڈ بھی حاصل کیا ہے، لیکن جب آپ ترقی کے لیے درخواست پیش کرتے ہیں تو آپ کا عیسائی سوپروائزرآپ کو ترقی دینے سے انکار کردیتا کیوں کہ وہ غیر عیسائی کی مقابلے اپنے عیسائی دوست کو ترقی دینا چاہتا ہے۔
  • آپ کسی پبلک اسکول  میں تین سالہ مدتی ٹریک پر استاد کی حیثیت سے کام کررہے ہیں آپ نے ہمیشہ اچھی اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے بہر حال، آپ کی میعاد کار کردگی مکمل  ہونے کو ہے کہ آپ کا مالک آپ کے پاس آتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ کیا آپ اس اسکول کے لیے مناسب ہے کیوں کہ آپ ایک موحد ہے۔ آپ کو اگلے میعاد سے انکار کردیا جاتا ہے.

مناسب اقامت

مالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمیں کے لیے مذہب اور مذہبی افعال کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ کا انتظام کریں

قانون مالک کو اس بات کا بھی پابند بناتا ہے کہ وہ ملازمیں کے لیے اس کے مذہبی اعمال کی ادائیگی کے لیےمناسب جگہ کا انتظام کریں تاہم اس کی وجہ سے کام میں زیادہ دشواری اورپریشانی نہ ہو۔ اس میں وہ جگہیں بھی شامل ہیں وہ لباس اور زیب و زینت کے لیے ہوتے ہیں

مثالیں:

  • مالک کو چا ہیے کہ وہ لباس اور زیب و زینت کے کوڈ کا خیال رکھے جو اس بات کو ظاہر کررہا ہو کہ ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سروں کو کھلا رکھے مسلم ملازم اسکارف پہننے کے لیے ایک استثنائی درخواست پیش کریں
  • عیسائی ملازم جو کسی خاص طبقے سے متعلق ہو تو وہ اتوار کے دن کی چھٹی کی درخواست دیں تاکہ وہ اپنی مذہبی اعمال کرسکے جو اس بات سے منع کرتا ہے وہ سبات کے دنوں میں کام کریں
  • پرائیوٹ کمپنی اسٹاف کے ممبران کے ساتھ اپنی ہفتہ واری میٹنگ کرتی ہے توحید کا عقیدہ رکھنے والے ملازم کے لیے ضروری ہے وہ اپنے آپ کو اس میٹینگ کے مذہنی کاموں سے الگ رہنے کے لیے پوچھے۔

بہر حال، مالک کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ایسی جگہیں مہیا کریں جو سختی کا باعث بن جائے۔ مثال کے طور پر ایسے مقامات جو قیمتی ہو، جو کام کی جگہوں کی امن امان کے باعث مخل ہو یا کام کی جگہوں کی پرائیویسی کے مخل ہو ایسی جگہیں مذہبی امتیازی قانون کے تحت نہیں آتی۔ ایسی ہی وہ جگہیں بھی اس میں شامل نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے دوسرے ملازمین کے حقوق کی پامالی ہو۔

غیر مساوی سلوک

مالک مذہب کی بنیاد ہو ملازمین کے ساتھ جداگانہ رویہ اختیار نہیں کرسکتا ہے۔ ملازمین کے ساتھ غیر مساوی سلوک غیر قانونی ہو چاہے وہ تعصب کی بنیاد پر ہو یا مذہبی اعمال و عقائد کی بنیاد پر ترجیح دیا جائے یہ غیر مساوی سلوک کام کی جگہ میں مذہبی آزادی رائے کو بھی شامل ہیں۔

مثالیں:

  • اگر کام کے لیے دو برابر صلاحیت و لیاقت والے امیدوار کا انتخاب کرتے ہو مینیجر بودھیسٹ امیدوار کی جگہ کسی عیسائی امیدوار کے انتخاب کرنے کا فیصلہ کرتا ہے کیوںکہ عیسائی اس جگہ کے لیے مناسب ہوگا۔
  • مالک مسلم امیدوار کو اس وجہ سے ملازمت پر نہ رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ مناسب جگہ کا مطالبہ کریگی اور وہ کام کی جگہ میں اسکارف پہننے کے لیے لباس کوڈ کی درخواست کرے گی۔
  • بہت سے ملازمین کو اس بات کی اجازت ہوتی ہے وہ بائیبل ہو اپنے ڈیسک پر رکھ سکتے ہیں جبکہ کچھ ملازمین سے کہا جا تا ہے وہ قرآن کو ڈراور میں ہی رکھے کیوں کہ مالک یہ نہیں چاہتا کہ اس وجہ سے اس کے کسٹمر خوف زدہ ہو جائیں۔
  • مالک اپنے ملازمت فراہم کرنے والی ایجنسیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کے خارج کردیں جن کے نام کسی خاص مذہبی شناخت جیسے محمد کے ساتھ آتے ہو۔

امتیازی اثرات والی پالیسیاں

غیر ارادی مذہبی امتیازات بھی غیر قانونی ہوسکتی ہیں۔

کام کی ایسی پالیسیاں جو بظاہر غیر جانب دار ہے لیکن اگر اس سے کسی خاص مذہب کے ملازمین کو نقصان پہونچ رہا ہو تو ایسی پالیسیاں بھی مذہبی امتیازات میں شامل ہوں گی اگر یہ پالیسی کام سے متعلق نہ ہو۔

مثال کے طور پرایک عام غیر جانب دار پالیسی جس کے تحت تمام ملازمین کو اس بات کا پابند بنا یا جائے انکی ڈاڑیاں بالکل صاف ہو اس سے کوئی مستثنی نہیں ہے یہ پالیسی سکھ مذہب کے پیروکار کے لیے ناقابل قبول ہے کیوں کہ ان کی مذہبی عقائد اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے چہرے کے بال منڈائے۔ ایسی ہی بال میں کسی خاص اسٹائل کا پابند بنا نا بھی راسطفاری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جن کے بال گھنگھڑیالے ہوتے ہیں۔

کام کرنے کے معاندانہ ماحول سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے

آپ اس صورت میں بھی مذہبی امتیازی سلوک کے ملزم ہو سکتے ہیں جس میں اگر چہ ملازمت کے حوالے سے کو ئی فیصلہ نہیں ہیں لیکن مذہبی بنیاد پر ایذارسانی کی وجہ سے کام کا ماحول معاندانہ ہو گیا ہو

کام کے ماحول کا معاندانہ ہونا مختلف صورتوں سے ہو سکتا ہے جیسے کسی مذہب یا مذہبی کاموں پر جوک کہنا برے الفاظ کا استعمال کرنا یا حقارت و توہین آمیز کلمات کا استعمال کرنا۔

معاندانہ برتاؤ معمولی یا خفیف سے زیادہ ہونا ضروری ہے

نیو یارک سیٹی کا معاندانہ ورک ماحول کے لیے فیاضانہ معیار ہے، جس کے ساتھ دوسروں کے مقابلے بہت ہی اچھا برتاؤ کیا گیا ہے اور یہ سب تمہارے مذہب اور کمتر علاج کی وجہ سے ہے ۔۔۔ وفاقی اور ریاستی قانون کا تقاضا ہے کہ برتاؤ یا تو سخت یا سرایت پذیر ہو۔

ناگوار برتاؤ کا مشاہدہ ہونے پر آواز اٹھانا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس طرح کے تبصرے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہیں۔

ضروری نہیں ہے کہ متاثرین اہداف ہی ہوں

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف معاندانہ تبصروں کا ہدف ہی کام کرنے کے معاندانہ ماحول کا شکار ہو سکتا ہے۔ آپ اس صورت میں بھی ملزم ہو سکتے ہیں جبکہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کے ساتھ ناگوار سلوک کیا گیا ہے یا آپ کا تعلق اس مذہب سے نہیں جس کو نشانہ بنا یا گیا ہو۔

اگر ناگوار رویہ آپ کے اپنے کام کرنے کی صلاحیت پر اثر ڈالتا ہے تو آپ دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔

ضروری نہیں ہے کہ مرتکب آپ کا باس ہی ہو

یہ غلط فہمی ہے کہ صرف آپ کا باس ہی کام کرنے کا معاندانہ ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ مالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی امتیاز کو روکے۔ ساتھی کارکن، کمپنی کے دوسرے شعبے کا سپروائزر یا حتیٰ کہ غیر ملازم، جیسا کہ ایک سپلائر بھی مرتکب ہو سکتا ہے۔

مذہبی امتیاز کے قوانین کے استثنیٰ

مذہبی امتیاز کے حفاظت کے حوالہ سے کچھ استثناء ہیں۔ مذہبی تنظیمیں اور مذہبی تعلیمی ادارے خاص مذہبی امتیاز کے قانون سے مستثنی ہیں۔ اس استثناء کے ساتھ ساتھ وہ ملازمین جو بحیثیت پادری کام کرتے ہو یا اس کے متعلق کام ہو وہ مذہبی امتیاز کے دعوی سے خارج ہے یہ اس قانون کے تحت آتا ہے جسے وزارت کا استثنا کہتے ہیں۔

قانون میں مذہبی تنظیمیں ایسے ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں “جن کا مقصد اصلی مذہب ہی ہے۔” ان اداروں کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے مذہب کے ممبران کو ملازمت میں ترجیح دیں۔ یہ استثناء امتیازیت کی دوسری صورت پرمنطبق نہیں ہو تا۔۔ مثال کے طور پر کوئی مذہبی ادارہ یہ دعوی نہیں کرسکتا ہے وہ امریکی افریقی نژاد، ہم جنس پرست مرد، یا جنس تبدیل کردہ لوگ اس طرح خواتین کو انکے مذہبی عقائد کی بنیاد پر ملازمت نہیں دے سکتا۔

وزارتی استثناء پہلی تبدیلی قانون کی بنیاد پر ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی چرچ پر کوئی دخل اندازی نہیں ہے جس پادری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اس بنیاد پر مذہبی ادارے وزارتی منصب میں خواتین کی ملازمت کا انکار کرسکتے ہیں۔

اگر آپ امتیازی سلوک کا شکار ہیں تو کیا کیا جائے

امتیازی سلوک کسی بھی جائے کار میں پیش آ سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ امتیازی سلوک یا کام کرنے کے معاندانہ ماحول کے شکار ہیں تو آپ فوری طور پر بہت سے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس بات کا واضح کرنا بھی اہم اور ضروری ہے کہ سلوک قابل ستائش نہیں اور اپنے ریکارڈ میں رکھے جو اس بات کو ثابت کریں کہ آپ نے یہ کیا ہے۔

  • امتیازی طرزعمل اور/یا ہراسانگی کو نوٹ کرنا شروع کریں۔ اپنی تفصیلات کو خاص طور سے لکھے اس کا وقت اس واقعے کے پیش آنے کی جگہ کی بھی تعیین کریں، کیا کہا گیا اور کیا کیا گیا نیز اس کام کے گواہان کی تفصیل بھی رکھیں۔
  • اچھا کام کرتے رہیں۔ اپنی ملازمت کے جائزوں اور ایسے خطوط یا یاد داشتوں کی نقول بنا لیں جن سے پتہ چلتا ہو کہ آپ کام کی جگہ پر اچھا کام کر رہے ہیں۔
  • دوستوں اور اہل خانہ، اہل علم اور اگر مفید ہو تو ذہنی صحت سے متعلق پیشہ ور فرد سے تعاون حاصل کریں۔ کام پر ہراسانگی کافی تناؤ بھری ہو سکتی ہے اور اکیلے اس کا سامنا کرنا مشکل چیز ہے۔
  • اپنے سپروائزر اور ہیومن ریسورسز کے محکمے کو تحریری شکل میں واقعہ کی رپورٹ کریں۔ انہیں اس رویے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے اختیار کردہ اقدامات کے بارے میں بتائیں۔
  • اپنی کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ ملازم کے لیے رہنما کتابچہ چیک کریں۔ اگر آپ کے مالک کے پاس ہراسانگی سے متعلق پالیسی نافذ العمل ہے تو اس پر عمل کریں۔
  • کسی بھی معلومات جیسے آپ کو مرسلہ نامناسب متون، تصاویر یا وائس میلز کو سنبھال کر رکھیں۔
  • اپنی تمام شکایات تحریری شکل میں دیں اور گھر پر اس کی نقول رکھیں۔

انتقامی کارروائی غیر قانونی ہے

اگر آپ مذہبی امتیاز کے بارے میں شکایت کرتے ہیں تو آپ کے مالک کے لیے یہ بات غیر قانونی ہوگا کہ وہ آپ کے خلاف کو کارروائی کریں۔

مالکان کے لیے یہ بات غیر قانونی ہے کہ وہ ایسے امیدوار یا ملازم کے انتقام لیں جو کام کے دوران امتیازی سلوک کے حوالے سے برابر روزگار کمیشن کسی اسٹیٹ یا شہر کے ایجنسی کے سامنے شکایت یا فائل درج کراتا ہے یا گواہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی امتیازی ملازمت میں شریک ہو تا ہے جیسا کہ تحقیقی ایجنسی یا کورٹ وغیرہ ہے۔

آپ انتقامی کارروائی سے محفوظ ہیں خواہ کوئی امتیازی سلوک نہ بھی ہوا ہو

تاوقتیکہ آپ کو مخلصانہ طور پر اور معقول حد تک اس بات کا یقین ہو جائے کہ امتیازی سلوک یا ہراسانگی پیش آئی ہے، آپ کے مالک کو آواز اٹھانے یا کسی تفتیش یا قانونی کارروائی میں شرکت کرنے پر آپ کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے باز رکھا گیا ہے۔ اگر ایجنسی یا عدالت یہ طے کرتی ہے کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر آپ اپنے جائے کار میں امتیازی سلوک یا ہراسانگی کے بارے میں آواز اٹھاتے ہیں تو قانونی امتیازی سلوک سے آپ کا تحفظ کرتا ہے۔

مذہبی امتیازی سلوک کے خلاف فائل کیسے داخل کریں

اگر آپ مذہبی امتیازی سلوک کے خلاف فائل داخل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بہت سارے طریقے موجود ہیں۔ آپ امریکی مساوی ملازمت کے موقع سے متعلق کمیشن (EEOC) کے پاس، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے یا نیو یارک ریاست کے شعبہ برائے انسانی حقوق کے پاس جو NYSHRL کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے یا نیو یارک سٹی کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے پاس جو CHRL کی خلاف ورزیوں کو نمٹاتا ہے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

اگر آپ کا دعوی مختلف قانون کے تحت آتا ہے تو اس کے لیے تین ایجنسیاں ہیں جو امتیازی سلوک جیسے دعوی پر کام کرتی ہیں۔ جس سے ” ورک شیرینگ اگریمینٹ” کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ آپ کے دعوی کو مکمل کرنے کے لیے آپ کا تعاون کرتے ہیں۔ ہر ایجنسی کے پاس الگ سےدعوٰی دائر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ دوسری ایجنسیوں کے پاس اپنا دعوی “کراس فائل” کرنا چاہتے ہیں۔

ای ای او سی، نیو یارک اسٹیٹ کے شعبہ برائے انسانی حقوق یا نیو یارک سٹی کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے پاس دعوٰی دائر کرنے کے طریقے کی بابت مخصوص معلومات کے لیے، امتیازی سلوک کا دعویٰ دائر کرنے کے طریقے سے متعلق ہمارا صفحہ پڑھیں۔

مذہبی امتیازی سلوک کا موازنہ

ٹائٹل VII این وائے ایس ایچ آر ایل سی ایچ آر ایل
ریاستہائے متحدہ کا احاطہ کرتا ہے نیویارک اسٹیٹ کا احاطہ کرتا ہے نیویارک سٹی کا احاطہ کرتا ہے
ان کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے جن میں 15 سے زیادہ ملا‍زمین ہوں، بشمول ملازمتی ایجنسیاں، یونینز اور وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومتیں، لیکن خود مختار ٹھیکیداران یا گھریلو کارکنان کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ ان کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے جن میں 4 سے زیادہ ملا‍زمین ہوں، بشمول ریاستی اور مقامی حکومتیں اور گھریلو کارکنان۔ ان کمپنیوں پر لاگو ہوتا ہے جن میں 4 سے زیادہ ملا‍زمین ہوں، بشمول بلدیہ کے مالکان اور بلا معاوضہ انٹرنس، نیز بعض حالات کے تحت خود مختار ٹھیکیداران۔
سب سے پہلے EEOC کے پاس واقعہ سے 180 دنوں کے اندر ایک شکایت درج کرنا ضروری ہے۔

تاہم، اگریہ چارج ریاستی یا شہری قوانین کے دائرہ کار میں بھی ہے تو اندراج کی آخری تاریخ 300 دنوں تک بڑھا دی جاتی ہے۔

آپ پہلے EEOC کے پاس دعوی دائر کیے بغیر وفاقی عدالت میں عنوان ہفتم کا دعوی دائر نہیں کر سکتے ہیں۔

NYSHRL کا اپنا دعوی ریاستی عدالت میں یا نیو یارک ریاست کے شعبہ برائے انسانی حقوق کے پاس دائر کرنے کے بیچ ایک اختیار ہوتا ہے۔

اگر آپ ایجنسی کے پاس دعوی دائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ کام واقعہ سے ایک سال کے اندر یا 240 دنوں کے اندر کرنا ضروری ہے، اگر آپ کا دعوی ٹائٹل VII کے دعوے پر مشتمل ہو۔

آپ کے پاس ریاستی عدالت میں اپنا دعوی دائر کرنے کے لیے واقعہ کی تاریخ سے 3 سال تک کا وقت ہے۔

CHRL کا اپنا دعوی ریاستی عدالت میں یا نیو یارک نیو یارک سٹی کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے پاس دائر کرنے کے بیچ ایک اختیار ہوتا ہے۔

اگر آپ ایجنسی کے پاس دعوی دائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ کام واقعہ سے ایک سال کے اندر یا 240 دنوں کے اندر کرنا ضروری ہے، اگر آپ کا دعوی ٹائٹل VII کے دعوے پر مشتمل ہو۔

آپ کے پاس ریاستی عدالت میں اپنا دعوی دائر کرنے کے لیے واقعہ کی تاریخ سے 3 سال تک کا وقت ہے۔

سرزنش اور کارکردگی کے منفی جائزے صرف اس صورت میں محیط ہوتے ہیں جب اس کے ساتھ تنخواہ میں کمی یا تنزلی ہو۔ سرزنش اور کارکردگی کے منفی جائزے صرف اس صورت میں محیط ہوتے ہیں جب اس کے ساتھ تنخواہ میں کمی یا تنزلی ہو۔ کارکردگی کے جائزے اور تادیبی فیصلے، تنخواہ میں کمی یا تنزلی کے بغیر بھی قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
کام کرنے کا معاندانہ ماحول شدید اور وسیع ہراسانگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ کام کرنے کا معاندانہ ماحول شدید اور وسیع ہراسانگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ ہراسانگی کے لیے معیار کمتر ہے۔ اس کی تعریف “کافی ہلکا” یا “ادنٰی زحمت” سے زیادہ کے طور پر کی جاتی ہے۔

مذہبی امتیازی سلوک کا قانونی علاج

اگر آپ اس بات کو ثابت کرتے ہیں آپ مذہبی امتیازی سلوک کے شکار ہے تو آپ اس کا علاج اس طور سے کرسکتے ہیں:

  • گزشتہ تنخواہ: وہ رقم اور فائدے جو آپ حاصل کر سکتے تھے اگر آپ کے مالک نے آپ کو برخاست کر کے یا ترقی یا بھرتی سے انکار کر کے نسلی امتیاز نہ برتا ہوتا۔ اس میں اجرتیں، بونس، اسٹاک کے اختیارات، چھٹی کی اجازت، نگہداشت صحت کے اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
  • بحالی: اگر آپ کو برخاست کر دیا گیا تھا تو آپ کے مالک کو آپ کی نوکری آپ کو لوٹانے یا جس ترقی سے آپ کو محروم کر دیا گیا تھا وہ آپ کو دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
  • سردست ادائیگی: اگر آپ کو اپنی نوکری واپس نہیں ملتی تو عدالت تنخواہ میں اس فرق کی تلافی کرنے کے لیے لازمی رقم کی مقدار منظور کر سکتی ہے جو آپ نے اس صورت میں آئندہ کمائے ہوئے اگر امتیازی سلوک نہ ہوا ہوتا۔ سردست ادائیگی کی رقم کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق جس وقت آپ کو غلط طریقے سے برخاست کیا گیا تھا، اس وقت آپ کو ملنے والی اسی سطح کی تنخواہ پر آپ کے واپس لوٹنے میں کتنا وقت لگے گا۔ سردست ادائیگی میں گزشتہ تنخواہ کی طرح تمام کھوئے گئے فوائد شامل ہوتے ہیں۔
  • تلافی کے لیے نقصانات کی ادائیگی: ان نقصانات کی ادائیگی کا مقصد امتیازی سلوک، بشمول تھیراپی کی لاگت، چھوٹی ہوئی اجرتوں یا نئی نوکری تلاش کرنے میں ہونے والے اخراجات نیز جذباتی تکلیف اور ابتلاء جیسی چیزوں کی وجہ سے ہونے والے فاضل اخراجات کی آپ کو “تلافی کرنا” ہے۔
  • تعزیری نقصانات کی ادائیگی: یہ نقصانات مالک کو سزا دینے اور آئندہ امتیازی کارروائیوں کو زک پہنچانے کے ارادے سے ہیں۔ نیو یارک سٹی کے قانون کے تحت تعزیری نقصانات کی ادائیگی منظور کی جا سکتی ہے اگر مالک نے آپ کے حقوق سے بے توجہی، لا پرواہی یا شعوری بے رخی کا مظاہرہ کیا۔
  • وکلاء کی فیس اور اخراجات: اگر آپ جیت جاتے ہیں تو آپ کے مالک کو آپ کے وکیل کو اس کے کام کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ماہر گواہ کی فیس اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے۔
  • قبل از فیصلہ سود: یہ رقم پر وہ منافع ہوتا ہے جو آپ نے امتیازی سلوک یا اپنی نوکری سے محروم نہ ہونے کی صورت میں کمایا ہوتا۔ عدالتوں کے پاس قبل از فیصلہ سود کا حساب کتاب کرنے، بشمول کون سی شرح سود لاگو کرنی ہے اور سود کو مرکب کرنے کے معاملے میں فکروعمل کی کافی آزادی ہوتی ہے۔

مختلف مذہبی امتیازی سلوک قانون کے تحت امکانی خطرات

ٹائٹل VII این وائے ایس ایچ آر ایل سی ایچ آر ایل
تلافی کے لیے نقصانات کی ادائیگی ہاں

‎15-100‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$50,000‎ تک

‎101-200‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$100,000‎ تک

‎‎201-500 ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$200,000‎ تک

500 سے زائد ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$300,000‎ تک

ہاں

لامحدود

ہاں

لامحدود

تعزیری

نقصانات

ہاں

‎15-100‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$50,000‎ تک

‎101-200‎ ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$100,000‎ تک

‎‎201-500 ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$200,000‎ تک

500 سے زائد ملازمین والے مالکان کے لیے ‎$300,000‎ تک

اگر آپ سرکاری مالک (وفاقی، ریاستی یا شہری) پر مقدمہ کر رہے ہیں تو آپ کو تعزیری نقصانات موصول نہیں ہو سکتے ہیں۔

نہیں ہاں

لامحدود

گزشتہ تنخواہ ہاں

عدالت کا تعین کردہ۔

ہاں

جیوری کا تعین کردہ۔

ہاں

جیوری کا تعین کردہ۔

بحالی ہاں ہاں ہاں
تنخواہ میں اضافہ
سردست ادائیگی ہاں

عدالت کا تعین کردہ۔

ہاں

جیوری کا تعین کردہ۔

ہاں

جیوری کا تعین کردہ۔

اداشدہ

نقصانات

نہیں نہیں نہیں
وکیل کی فیس ہاں نہیں ہاں
کیا آپ کسی انفرادی سپروائزر کے خلاف مقدمہ لا سکتے ہیں نہیں ہاں ہاں
قبل از فیصلہ سود ہاں ہاں ہاں
ہم سے رابطہ کریں

Send Us an Email

  • 100%